سیکیورٹی خدشات،پاکستان کی ترقی کا ایم ایل ون منصوبہ مزید التواء کا شکار

پاکستان میں چینی انجینئرز پر حملوں کے باعث کئی اہم ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔۔۔۔ انہیں میں ایک اہم منصوبہ پاکستان ریلویز کا ایم ایل ون پروجیکٹ ہے جس پر ابھی تک کام شروع نہ ہو سکا۔۔۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات، پاکستان کی ترقی کا اہم ترین ریلوے "ایم ایل ون منصوبہ” مزید التواء کا شکار ہو گیا

پاکستان، چین دوطرفہ تکنیکی اجلاس پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد 16 جنوری 2025ء کو منعقد ہوا۔۔۔چین کے سیکیورٹی خدشات کے باعث اجلاس پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد آن لائن منعقد کیا جا سکا۔۔۔

چین نے ستمبر 2024ء کو گیارہویں ورکنگ گروپ اجلاس میں تکنیکی ٹیم پاکستان بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث تکنیکی ٹیم پاکستان نہ آ سکی۔۔۔

پاک، چین وزرائے اعظم نے اکتوبر 2024ء میں ایم ایل ون منصوبے کے کراچی حیدرآباد سیکشن سے تیز تر آغاز اور تکمیل کا عہد کیا تھا۔۔۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نومبر 2024ء میں پھر دورہ چین کے دوران تکنیکی ٹیم بھیجنے کی درخواست کی تھی۔۔۔پاکستان سے دسمبر 2024ء میں چینی حکام کو اپنی تکنیکی ٹیم بھیجنے کے لیے خط لکھا گیا۔۔

ایکنک نے دو مراحل پر مشتمل ایم ایل ون منصوبے بارے نظرثانی امور پر جولائی 2024ء میں منظوری دی۔۔۔ پہلا مرحلہ دو آزمائشی پیکجز پر مشتمل، پہلا پیکج کراچی، حیدرآباد روٹ کی تعمیر کا ہے۔۔

ایم ایل ون منصوبہ 1726 کلومیٹر طویل ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔۔۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے