اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ۔۔۔۔ دو ماہ کیلئے نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان کر دیا۔۔۔ شرح سود 12 فیصد پر برقرار رہے گی۔۔۔۔
اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے نے تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی شرح سود میں کمی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔ تاجروں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم ایف پی سی سی آئی نے شرح سود میں 5 فیصد کمی کا مطالبہ کیا تھا۔۔۔
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار ایک فیصد کمی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔۔۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے مالیاتی پالیسی بیان میں کہا ہے فروری میں مہنگائی میں کمی نے سٹیٹ بینک کی توقعات پوری نہیں کیں۔۔۔۔ مالیاتی پالیسی بیان میں کہا گیا ہے بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری ہے۔۔۔ توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشتہ بدستور برقرار ہے۔۔۔
سٹیٹ بینک نے کہا ہے کئی ماہ سرپلس رہنے کے بعد جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا۔۔۔ غیر ملکی قرض اور سود کی ادائیگی کے باعث Balance of Payments پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔۔۔ درآمدی بل بڑھنے کے باعث سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں کمی آئی ہے۔۔
سٹیٹ بینک کے مطابق حکومت اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔۔۔ جنوری اور فروری میں ایف بی آر اپنے ٹیکس ٹارگٹ پورے نہ کر پایا۔۔۔
مالیاتی پالیسی بیان میں کہا گیا ہے بڑی صنعتوں کی پیداوار میں رواں مالی سال کے چھ ماہ میں گروتھ منفی رہی ہے۔۔۔ گو کہ معاشی سرگرمیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں لیکن لارج اسکیل مینوفیکچرنگ ریڈ زون میں ہے۔۔
سٹیٹ بینک نے کہا ہے رہی سہی کسر مختلف ممالک کے ایک دوسرے پر ٹیکسوں کے نفاذ نے پوری کر دی۔۔۔ عالمی مارکیٹ میں ابھی غیر یقینی صورتحال ہے۔۔

