حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر 15 مارچ کو یوم ختم نبوت کے طور پر منانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جو ملک بھر میں خصوصی تقریبات، سیمینارز اور آگاہی مہمات کے ساتھ منایا جائے گا۔
اہم نکات:
🔹 یوم ختم نبوت ملک بھر میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت منایا جائے گا۔
🔹 اس دن کا مقصد ختم نبوت پر عقیدے کا اعادہ اور گستاخانہ مواد کے پھیلاؤ کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہے۔
🔹 حکومت نے آن لائن اسلام مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے خصوصی مانیٹرنگ اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
🔹 بین الاقوامی سطح پر اسلامو فوبیا اور گستاخانہ واقعات کے خلاف پاکستان کا سخت ردعمل اس اقدام کی بنیادی وجہ ہے۔
پس منظر اور تاریخی اہمیت:
1974 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔
2017 میں ختم نبوت کے حلف میں تبدیلی کی کوشش پر ملک گیر احتجاج ہوا، جس کے نتیجے میں وزیر قانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔
15 مارچ کو منانے کا فیصلہ نیوزی لینڈ کی ایک مسجد پر دہشت گرد حملے کے پس منظر میں کیا گیا، جس میں 51 نمازی شہید ہوئے تھے۔
حکومتی اقدامات:
وزارت مذہبی امور نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مساجد، مدارس اور دیگر عوامی فورمز پر آگاہی مہم چلائی جائے۔
آن لائن گستاخانہ مواد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ڈیجیٹل ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے۔
پاکستان عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خلاف مضبوط موقف اپناتے ہوئے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے پلیٹ فارمز پر معاملہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
