اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں مسلسل کمی کے معیشت پر مثبت اثرات۔۔۔۔ گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔۔۔۔
پاکستان آٹوموٹیوز مینوفیکچررز اینڈ اسمبلرز ایسوسی ایشن نے تفصیلات جاری کر دیں۔۔۔
رواں مالی سال کے 8 ماہ میں گاڑیوں کی فروخت 51 فیصد اضافے کے بعد ایک لاکھ 41 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی۔۔۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے جون 2024 سے پالیسی ریٹ گرنا شروع ہوا اور فروری تک شرح سود میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔۔۔ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آ گیا۔۔۔
بینکوں کی شرح سود میں کمی کے باعث گاڑیوں قرضے سستے ہوئے اور لوگوں نے بڑی تعداد میں بینکوں کی کار فنانسنگ کے ذریعے نئی گاڑیاں خریدیں۔۔۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2024 سے دسمبر 2024 تک بینکوں نے 11 ارب روپے آٹو فنانسنگ کی مد میں جاری کئے۔۔۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 8ماہ میں 67 ہزار سے زائد پسنجر کاریں فروخت ہوئیں۔۔۔ 9لاکھ 35ہزار 474 موٹر سائیکلیں فروخت ہوئیں۔۔
26ہزار 641 تھری وہیلرز فروخت ہوئے۔۔ 21ہزار 692 ٹریکٹرز آٹھ ماہ میں فروخت ہوئے۔۔۔
فروری میں گاڑیوں کی فروخت میں 29 فیصد کمی آئی۔۔۔فروری میں 12 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت ہوئی۔۔۔
ایک ماہ پہلے 17 ہزار گاڑیاں فروخت ہوئیں تھیں۔۔۔سالانہ بنیادوں پر کاروں کی فروخت میں 24فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔۔
فروری2024 میں 9700 گاڑیاں فروخت ہوئیں تھیں۔۔۔
فروری 2025 میں 1300 اور اس سے زائد سی سی کی 8869 کاریں فروخت ہوئیں۔۔1000سی سی کی صرف 469 کاریں فروخت ہو سکیں۔۔800سی سی کی 3600کاریں فروخت ہوئیں۔۔13الیکٹرک کاریں بھی فروری میں فروخت ہوئیں۔۔
فروری میں 416 ٹرکس،،،70بسیں ،، 1534فارم ٹریکٹرز فروخٹ ہوئے۔۔۔
فروری میں ایک لاکھ 23ہزار موٹر سائیکلیں فروری میں فروخت ہوئیں۔۔۔ چنگچی اور رکشوں کی فروخت کا حجم 3800 یونٹس رہا۔۔
مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار کاریں،موٹر سائیکلیں،تھری وہیلرز فروخت ہوئے۔۔۔
