آئی ایم ایف کےساتھ پالیسی مذاکرات کے بعد منی بجٹ کا خطرہ ٹل گیا

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات کے بعد منی بجٹ کا خطرہ ٹل گیا۔۔۔ حکومت نے ٹیکس آمدنی میں کمی کو پورا کرنے کے ذرائع پر آئی ایم ایف کو رام کر لیا۔۔۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ ٹیکس شارٹ فال کو نان ٹیکس آمدنی سے پورا کیا جائے گا۔ جو کسر رہ جائے گی وہ سُپر ٹیکس سے پوری کی جائے گی۔ آئی ایم کو یقین دلایا گیا کہ سپر ٹیکس کا مسئلہ عدالت سے جلد حل کرا لیا جائے گا۔۔

آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔۔۔ رائٹ اور ڈاؤن سائزنگ کی جا رہی ہے۔ نجکاری پر بھی جلد ہی کام تیز کر دیا جائے گا۔۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے وفاقی حکومت کی پہلی ششماہی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم صوبوں سے کہا گیاہے کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کی جائے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو بجٹ خسارہ ہدف کے اندر رکھنے کی بھی یقین دہانی کروا دی ۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی تیز کی جائے جبکہ حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ٹیکس کی شرح میں میں کمی کی تجویز دی ہے ۔ آئی ایم کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سپر ٹیکس کا مسلہ بھی عدالت سے جلد حل ہو جائے گا۔۔۔

ذرائع کا کہناہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام ضروری معاشی اعداد و شمار پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اورایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کے قومی امکانات ہیں۔آئی ایم ایف کا مشن آج واپس روانہ ہو جائے گا جبکہ مزید مذاکرات کیلئے آن لائن رابطہ رکھا جائے گا ۔ قرض کی دوسری قسط جاری کرنےسے متعلق حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ دے گا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے