امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے ایک وفاقی جج کے مواخذے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ وہی جج ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر ملک بدری کے حکم کو روکنے کا فیصلہ دیا تھا۔
چیف جسٹس رابرٹس نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلوں کو قانونی طریقہ کار کے تحت چیلنج کیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی انتقامی کارروائی کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ "دو صدیوں سے زائد عرصے سے، ہمارا عدالتی نظام اس اصول پر قائم ہے کہ مواخذہ عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔”
پس منظر
🔹 جج جیمز ای بواسبرگ نے 1798 کے ایلین اینیمیز ایکٹ کے تحت ملک بدری کے ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے کو روک دیا تھا۔
🔹 بواسبرگ نے کہا کہ یہ قانون بے قابو ایگزیکٹو اختیارات کی اجازت نہیں دیتا۔
🔹 فیصلے سے مایوس ہوکر، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جج کے مواخذے کا مطالبہ کیا اور انہیں "غیر منتخب مشتعل” قرار دیا۔
