2020 میں پاکستان اسٹیل ملز سے نکالے گئے 4544 ملازمین کے بقایا جات کیلئے حکومت نے نیشنل بینک سے 2 ارب 87 کروڑ روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت یہ قرض آئندہ 20 سال میں واپس کرے گی۔۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے نیشل بینک سے قرض لینے کی منظوری دے دی ہے۔۔
سرکاری دستاویز کے مطابق ملازمین کو تاحال 2 ارب 87 کروڑ کے بقایا جات ادا نہیں کیے گئے تھے، یہ رقم ملازمین کے گریجویٹی اور دیگر بقایا جات کی مد میں دی جانی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ اس حوالے سے پٹیشن پر فیصلہ دے چکی ہے جب کہ نیشنل بنک آف پاکستان کو بھی اس حوالے سے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز جون 2015 سے بند ہے اور اس کی نجکاری کی تجاویز بھی کئی بار پیش کی جا چکی ہے۔
وفاقی حکومت نے کراچی میں نئی اسٹیل ملز قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جب کہ گزشتہ ہفتے ہی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی ) نے کراچی اسٹیل ملز کی 32سو ایکڑ زمین پر انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔
