گلگت بلتستان میں گلیشیئر پھٹنے سے دریائے غذر بند ، شدید سیلاب کا خطرہ ، 200 افراد محفوظ مقام پر منتقل

چلاس : گلگت بلتستان میں گلیشیئر پھٹنے سے دریائے غذر بند (بلاک) ہوگیا، جس سے زیریں علاقوں کو خطرہ لاحق ہوگیا، ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے کم از کم 200 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلاف) گلیشیائی جھیل سے پانی کے اچانک اخراج کو کہا جاتا ہے، جو شدید سیلاب کا باعث بنتا ہے، اور اپنے راستے میں آنے والے دریاؤں کو بند یا مغلوب کر سکتا ہے۔

پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زائد گلیشیئر موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے بعد سب سے بڑے ذخائر ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ چترال اور گلگت بلتستان میں تقریباً 10 ہزار گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت بڑھنے سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ایک بیان میں کہا گیا کہ 200 افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکال کر غذر کے یانگل اور سمل علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے، کئی افراد کے مکانات تباہ ہونے کے بعد وہ صدمے میں ہیں، متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے جاری ایک اور بیان میں ریسکیو 1122 نے کہا تھا کہ گپیس وادی کے تلی داس اور روشان دیہات میں رات گئے گلیشیئر پھٹنے کا ہولناک واقعہ پیش آیا، جس سے زیریں علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ دریائے غذر کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند رہا، جس سے زیریں علاقوں کے لیے خطرات بڑھ گئے اور دریائے غذر میں شدید سیلاب کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے