بھارتی نیویگیشن سسٹم ناکارہ، سیٹلائٹس فیل، "میک اِن انڈیا” بے نقاب

نئی دہلی : مودی سرکار کے بلند بانگ دعووں کے برعکس، بھارت کا خود ساختہ سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم "ناوک” (NAVIC) مسلسل تکنیکی خرابیوں اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہے۔

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (ISRO) نے آر ٹی آئی کے ایک جواب میں پانچ ناوک سیٹلائٹس کے مکمل ناکارہ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، جبکہ باقی سیٹلائٹس میں سے صرف دو کے روبیڈیم کلاک فعال ہیں، جو نیویگیشن کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ دیگر سیٹلائٹس کے کلاک ناکام ہو چکے ہیں، جس سے نظام کی درستگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ناوک نظام کی ناکامی کی بنیادی وجہ مقامی طور پر روبیڈیم کلاک تیار کرنے میں تاخیر اور درآمدی پرزوں پر انحصار ہے۔سپیس ایپلیکیشنز سینٹر کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی کے مطابق مقامی روبیڈیم کلاک اب بھی تیاری کے مراحل میں ہے اور درآمدی سپلائی چین میں مشکلات درپیش ہیں۔

ناوک نیویگیشن سسٹم جسے 2013 میں بھارت نے لانچ کیا تھا، اب تک نو سیٹلائٹس پر مشتمل ہو چکا ہے، جن میں سے اکثریت غیر مؤثر ہو چکی ہے۔جنوری 2025 میں لانچ کیا گیا NVS-02 سیٹلائٹ بھی مطلوبہ مدار میں داخل ہونے میں ناکام رہا جو سسٹم کی ٹیکنیکل ناکامیوں کو مزید واضح کرتا ہے۔

ناوک کا دائرہ کار صرف بھارت اور اس کے 1500 کلومیٹر کے اندر محدود ہے، اور یہ سسٹم شہری صارفین کو کم درست نیویگیشن سروسز فراہم کرتا ہے، جو جدید عالمی معیارات سے کہیں پیچھے ہے۔

"میک اِن انڈیا” کے دعووں کے باوجود، بھارت کا خلائی اور نیویگیشن نظام مکمل طور پر درآمدی پرزوں اور بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے جو مودی سرکار کے خود انحصاری کے نعروں کو غیر مؤثر اور دکھاوے کا آئینہ بناتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خلائی پالیسی نہ صرف ناقص حکمت عملی کی عکاس ہے بلکہ اس کا عالمی خلائی دوڑ میں مقام بھی غیر معتبر ہو چکا ہے۔ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلسل ناکامیوں نے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور مودی سرکار کی خارجہ اور سائنسی پالیسیوں کو ایک بار پھر سوالات کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے