پروونشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا کہ 1955 کے بعد یہ صورتحال ستلج میں دیکھنے کو ملی ہے۔۔ یہ سارا پانی انڈیا میں بند بریچ ہونے کے سبب قصور کی طرف آیا ہے۔۔ قصور کو بچانے کے لیے موجود بند میں شگاف ڈالنا پڑ رہا ہے۔۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو 1122 کے اہلکار اور دیگر صوبائی محمکے قصور شہر کو بچانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔۔ آر والی بند شگاف ڈالنا ضروری ہو گیا تھا۔۔
دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔۔ پانی جب تک بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند تک نہیں پہنچے گا خطرہ مسلسل منڈلاتا رہے گا۔۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوکی پر جب پانی کی سطح اونچی ہوگی تو نالہ ڈیک پر مسائل پیدا ہوں گے۔۔ اوکاڑہ ساہیوال کو دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظر خطرہ ہوگا۔۔ سدھنائی پر 36 گھنٹے میں پانی پہنچے گا۔۔
قادر آباد میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا ہے۔۔ منڈی بہاوالدین کے 45 موضع جات متاثر ہوئے جس کے بعد پانی واپس دریا میں گیا۔۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی پکے ولا نورہ شاہ و دیگر گاؤں میں داخل ہوا اور اب پانی تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تریمو ڈاؤن سٹریم شاید پانی برداشت نہ کر سکے۔۔ شدید متاثر علاقہ کو بچانا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق جھنگ شور کوٹ پر شگاف ڈال کر پانی کو کنٹرول کیا گیا۔۔ اردگرد کے تمام علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔۔ ہر گھنٹے میں اعداد و شمار چینج ہورہے۔۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیار نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔ اب تک 28 اموات ہوچکی ہیں،لیکن تمام جگہ ریسکیو عملے نے بروقت آپریشن کیا۔۔ اوکاڑہ پاکپتن اور ملحقہ علاقوں کے لیے اب مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ بندوں میں شگاف ڈالے بغیر پانی کی نکاسی کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا آنے والے وقتوں میں بدلتی صورتحال کے ساتھ معاملات مختلف ہوں گے۔۔ راوی اپنے قدرتی مقام سے گزر رہا اس حوالے سے اقدامات کریں گے۔۔ راستے میں آنے والی تمام سوسائٹیز کو بروقت اطلاع دی گی۔۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار تین دریاؤں میں اتنا بڑا سیلاب آیا ہے۔۔
