کیمرون میں انتخابی کریک ڈاؤن کے دوران دو افراد ہلاک، درجنوں گرفتار

کیمرون میں انتخابی کریک ڈاؤن کے دوران دو افراد ہلاک، درجنوں گرفتار — صدارتی دوڑ میں پال بیا کی جیت کے امکانات بڑھ گئے

یاؤنڈے  — کیمرون میں صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان سے قبل حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم دو افراد ہلاک اور درجنوں گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ انتخابی عمل میں بدامنی کی یہ تازہ لہر 92 سالہ صدر پال بیا کی ممکنہ جیت کے اشارے دے رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق، الیکشن کمیشن (Elecam) کے ابتدائی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 1982 سے اقتدار میں موجود پال بیا ایک بار پھر کامیاب ہونے جا رہے ہیں۔ اس اطلاع نے مخالفین میں غصہ اور بے اعتمادی کو جنم دیا ہے، جس کے باعث شمالی اور وسطی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

انتخابی عمل پر حزبِ اختلاف کی جانب سے بدانتظامی اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ آئینی کونسل کے سربراہ کلیمنٹ اتنگانا نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری نتائج 27 اکتوبر کو جاری کیے جائیں گے، تاہم انہوں نے حزبِ اختلاف کی جانب سے جمع کرائی گئی 10 درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اپوزیشن رہنما عیسیٰ چیروما باکاری، جو پہلے بیا کے قریبی اتحادی رہ چکے ہیں، نے خود کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 54.8 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بیا کو صرف 31.3 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئینی کونسل “غلط نتائج” کو برقرار رکھتی ہے تو یہ عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری جانب، حکمران جماعت کیمرون پیپلز ڈیموکریٹک موومنٹ (CPDM) نے چیروما کے دعوے کو “جھوٹ پر مبنی ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پُرامن طریقے سے سرکاری نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

شمالی شہر گارووا میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک استاد خاتون سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔ دارالحکومت یاؤنڈے میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے جنہیں پولیس نے آنسو گیس اور طاقت کے استعمال سے منتشر کر دیا۔

دور شمالی علاقے ماروا میں نوجوانوں نے گورنر کے دفتر کے باہر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا احتجاجی خط چھوڑا، جس میں غربت، سیاسی ناانصافی اور حکومت کی جانب سے مبینہ دھاندلی پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا۔ خط میں لکھا تھا “اگر حکومت نے عوام کے ووٹوں کی توہین کی، تو ہم بوکو حرام میں شامل ہونے پر مجبور ہوں گے۔”

حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ پال اتنگا اینجی نے اعلان کیا کہ 20 سے زائد گرفتار افراد پر بغاوت اور اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

اسی دوران، تجارتی دارالحکومت دوالا سمیت کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہو گئیں، جنہیں ریاستی کمپنی کیمٹیل نے “ٹیکنیکل خرابی” قرار دیا۔

کیمرون کی نیشنل ایپسکوپل کانفرنس نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ آرچ بشپ اینڈریو فوانیا نکیا نے کہا “ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا کی مدد سے ہمارا ملک سچائی، امن اور استحکام کے ساتھ اس بحران سے نکلے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے