سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین نے بھارت کے ساتھ متنازع سرحدی علاقوں میں اپنے فوجیوں کی جگہ روبوٹس تعینات کر دیے ہیں، جس کے بعد اس معاملے پر عالمی سطح پر دلچسپی اور بحث میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مختلف دفاعی تجزیوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق چین گزشتہ چند برسوں سے سرحدی نگرانی، لاجسٹک سپورٹ اور دشوار گزار علاقوں میں فوجی آپریشنز کے لیے جدید روبوٹک اور بغیر پائلٹ نظاموں کے استعمال میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان نظاموں میں سامان بردار روبوٹس، خودکار نگرانی کے آلات، مصنوعی ذہانت پر مبنی سینسرز اور بعض مسلح زمینی روبوٹس بھی شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ ہمالیہ کے بلند و بالا اور انتہائی سرد علاقوں میں چینی فوجیوں کی جگہ روبوٹک پلیٹ فارمز نے لے لی ہے، تاکہ سخت موسمی حالات، شدید سردی اور آکسیجن کی کمی جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔ بعض عربی زبان کی پوسٹس میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا کہ چین نے اپنے فوجیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید روبوٹس کو سرحدی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی قابلِ اعتماد اور مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ چین نے بڑے پیمانے پر انسانی فوجیوں کو مکمل طور پر روبوٹس سے تبدیل کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین جدید فوجی ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت ضرور دے رہا ہے، لیکن روبوٹس کا کردار فی الحال معاون، نگرانی اور لاجسٹک نوعیت کی ذمہ داریوں تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین نے تبت اور سنکیانگ کے بعض حساس سرحدی علاقوں میں روبوٹک "مَیول” سسٹمز، خودکار نگرانی کے آلات اور مصنوعی ذہانت سے لیس سکیورٹی پلیٹ فارمز کی آزمائش اور محدود تعیناتی کی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد دشوار گزار علاقوں میں فوجی سامان کی ترسیل، نگرانی اور خطرناک مقامات پر گشت کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
