بیجنگ میں قائم غیر سرکاری تھنک ٹینک چارہار انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چنگ شی ژونگ نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کو پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی مہم میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں بھارت کی سرپرستی میں سرگرم 22 دہشت گردوں کا خاتمہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مددگار ہے بلکہ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں ایک علاقائی طاقت کے کردار کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
پروفیسر چنگ شی ژونگ نے پشاور میں فیڈرل کنسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر حالیہ خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ تیز اور مربوط کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمتِ عملی، اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور مضبوط عزم موجود ہے، جس کے ذریعے عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر چنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو ہمیشہ قومی ترجیح کے طور پر پیش کیا ہے، جو قومی اتفاقِ رائے اور مضبوط سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

