واشنگٹن — امریکی صدر کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں اکیلے فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنے کا اختیار ختم کیے جانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دفاعی بجٹ کے مسودے پر متفق ہوگئے ہیں، جس کے بعد صدر ٹرمپ مستقبل میں بیرون ملک طاقت کے استعمال سے متعلق یک طرفہ فیصلے نہیں کر سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق نئے دفاعی بجٹ ڈرافٹ میں وہ قوانین ختم کیے جا رہے ہیں جن کے تحت امریکی صدر کو خصوصی اختیارات حاصل تھے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سمیت کسی بھی بیرون ملک خطے میں براہِ راست آپریشن کا حکم دے سکتے تھے۔ مسودہ منظور ہونے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
گزشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ امریکہ کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی اور نایاب موقع موجود ہے اور پہلی بار تمام فریق کسی خاص مقصد کے لیے یکجا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے پاس مشرقِ وسطیٰ میں عظیم بننے کا حقیقی موقع ہے۔
ہم یہ کامیابی حاصل کر کے رہیں گے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں عظمت کا نیا باب رقم کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام شراکت دار اس مشن میں ساتھ کھڑے رہیں۔
