بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات کا سلسلہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ ریاست بہار میں آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن (AIJGF) نے حجاب، برقع، نقاب اور ماسک پہننے والے افراد کے زیورات کی دکانوں میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
فیڈریشن نے اس فیصلے کو سیکیورٹی خدشات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور چہرہ ڈھانپنے والے افراد کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ بہار چیپٹر کے صدر اشوک کمار ورما کے مطابق جن افراد کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آئے گا، انہیں زیورات کی دکانوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کا تسلسل
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی سے متعلق نہیں بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس نظریاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں پہلے ہی مساجد، مدارس اور اسلامی علامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اب مذہبی لباس کو بھی روزمرہ زندگی میں پابندیوں کا سامنا ہے۔
مودی حکومت کے دور میں بڑھتا جبر
ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے خلاف جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں ایک طرف املاک کی مسماری کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں تو دوسری جانب مذہبی شناخت کو محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ زیورات کی دکانوں میں داخلے پر پابندی کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی کا متنازع واقعہ بھی یاد
یہ پہلا موقع نہیں کہ بہار میں ایسا واقعہ سامنے آیا ہو۔ دسمبر 2025 میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا سرعام حجاب ہٹانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا، جس نے بھارت میں مسلمانوں کے احترام، وقار اور مذہبی آزادی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے امتیازی فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور بھارت میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دی جائے۔
