ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار کے بعد ایک لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ، 25لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑچکے

More than 100,000 US visas have been canceled since Trump returned to power, and more than 2.5 million people have left the country.

واشنگٹن – امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک ایک لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق منسوخ کیے گئے ویزوں میں تقریباً 8 ہزار غیر ملکی طلبہ اور 2 ہزار 500 خصوصی مہارت رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ویزا منسوخیاں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے مجرمانہ نوعیت کے معاملات کے باعث کی گئیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کیسز میں الزامات ثابت ہوئے یا نہیں۔

امریکی حکومت کے مطابق اب تک 25 لاکھ سے زائد افراد کو ملک چھوڑنے یا بے دخل کرنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، جسے انتظامیہ نے ایک ریکارڈ قرار دیا ہے۔ تاہم متعدد کیسز میں قانونی ویزا رکھنے والے افراد کی بے دخلی پر انسانی حقوق اور قانونی طریقۂ کار سے متعلق سنگین سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ویزا منسوخی کی بڑی وجوہات میں ویزا کی مقررہ مدت سے زائد قیام، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، تشدد اور چوری جیسے الزامات شامل ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں ویزا منسوخی کی شرح میں 150 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمۂ خارجہ نے اس پالیسی کے تحت ایک نیا ’’کنٹینیوس ویٹنگ سینٹر‘‘ بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد امریکا میں موجود غیر ملکی شہریوں کی مسلسل نگرانی اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر ویزا منسوخی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ عام شہریوں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شریک غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جانے پر آزادیٔ اظہار سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح امیگریشن کارروائیوں کے دوران طاقت کے استعمال پر امریکا کے مختلف حصوں میں عوامی غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اقدامات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے