لاہور ۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کی پلیئرز آکشن سے قبل مقامی کھلاڑیوں کی ممکنہ نئی کیٹگریز کی فہرست سامنے آ گئی ہے، جس میں کئی نمایاں کھلاڑیوں کی کیٹگریز میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض اسٹار کرکٹرز کو اعلیٰ کیٹگری میں برقرار رکھا گیا ہے جبکہ کئی کھلاڑی اپ گریڈ اور ڈاؤن گریڈ بھی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان، عماد وسیم اور نسیم شاہ کو نئی فہرست میں بدستور پلاٹینم کیٹگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ اسی ٹیم کے صاحبزادہ فرحان کو گولڈ کیٹگری میں رکھا گیا ہے، جبکہ سلمان علی آغا اور محمد نواز کو ڈائمنڈ سے اپ گریڈ کر کے پلاٹینم کیٹگری میں شامل کر لیا گیا ہے۔
وکٹ کیپر بیٹر اعظم خان کی کیٹگری میں کمی کی گئی ہے اور وہ ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں۔ کراچی کنگز کے فاسٹ بولر حسن علی کو ڈائمنڈ سے پلاٹینم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ عباس آفریدی پلاٹینم سے ڈائمنڈ کیٹگری میں چلے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خوشدل شاہ اور عامر جمال کو ڈائمنڈ سے گولڈ میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ عرفات منہاس گولڈ سے سلور کیٹگری میں آ گئے ہیں۔ قومی ٹیم کے بیٹر شان مسعود کو ڈائمنڈ کیٹگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔
لاہور قلندرز کے اہم کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان اور حارث رؤف بدستور پلاٹینم کیٹگری میں شامل رہیں گے۔ اسی دوران سلمان مرزا کو گولڈ سے ڈائمنڈ میں اپ گریڈ کیا گیا ہے، جبکہ محمد نعیم ایمرجنگ سے سلور کیٹگری میں آ گئے ہیں۔
پشاور زلمی کے بابر اعظم اور صائم ایوب کو بھی پلاٹینم کیٹگری میں برقرار رکھا گیا ہے، تاہم محمد حارث اور محمد علی ڈائمنڈ سے گولڈ میں منتقل ہو گئے ہیں۔
ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان پلاٹینم کیٹگری میں بدستور موجود ہیں، جبکہ اسامہ میر اور افتخار احمد کو پلاٹینم سے ڈائمنڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ محمد حسنین ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں، جبکہ عاکف جاوید کو سلور سے گولڈ کیٹگری میں ترقی دی گئی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فہیم اشرف اور محمد عامر کو پلاٹینم کیٹگری میں برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ ابرار احمد کو ڈائمنڈ سے اپ گریڈ کر کے پلاٹینم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وسیم جونیئر گولڈ سے ڈائمنڈ، عثمان طارق سلور سے ڈائمنڈ میں آ گئے ہیں، جبکہ خواجہ نافع سلور اور حسن نواز ایمرجنگ سے گولڈ کیٹگری میں منتقل ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کیٹگریز کو حتمی شکل پی ایس ایل 11 کی پلیئرز آکشن سے قبل دی جائے گی، جس کے بعد فرنچائزز اپنی ٹیموں کی تشکیل کے لیے حتمی حکمت عملی مرتب کریں گی۔
