کیف / ابوظہبی – یوکرین پر رات بھر ہونے والی شدید روسی فضائی بمباری کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے منقطع ہو گئے۔
یوکرین اور روس کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا روز ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوا، تاہم فریقین کسی تحریری یا عملی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ ان حملوں کے باعث سخت سرد موسم کے دوران 10 لاکھ سے زائد یوکرائنی شہری بجلی سے محروم ہو گئے۔
مذاکرات کے اختتام پر جاری بیانات میں کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا، البتہ ماسکو اور کیف دونوں نے مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مذاکرات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا مرکزی نکتہ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ فریم ورک اور شرائط پر غور تھا۔
زیلنسکی کے مطابق “ان ملاقاتوں کے نتیجے میں تمام فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ مذاکرات کی تفصیلات اپنے اپنے دارالحکومتوں میں قیادت کو پیش کی جائیں اور آئندہ اقدامات پر مشاورت کی جائے۔”انہوں نے عندیہ دیا کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں مزید ملاقاتیں ممکن ہیں متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یوکرین اور روس کے درمیان براہِ راست آمنے سامنے بات چیت ہوئی، جس میں واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ امن فریم ورک کے باقی نکات پر غور کیا گیا۔یوکرین کے مرکزی مذاکرات کار رستم عمروف کے ترجمان کے مطابق مذاکرات ہفتے کے روز ابوظہبی کے وقت کے مطابق شام پانچ بجے سے قبل ختم کر دیے گئے۔
واضح رہے کہ یوکرین جنگ فروری 2022 میں روس کے مکمل فوجی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جو اب تقریباً چار سال مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ حالیہ بمباری نے ایک بار پھر انسانی بحران کو شدید کر دیا ہے۔
