وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے سابق قومی کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے ملاقات کی، جس میں بحری شعبے اور اسپورٹس سیکٹر کے درمیان تعاون کو فروغ دینے سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران بلیو اکانومی وژن کے تحت کھیلوں کے فروغ، ماحولیاتی آگاہی، سمندری تحفظ اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ دونوں شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کو قومی ترقی اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اب صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہیں قومی ترقی، نوجوانوں کی تربیت اور سماجی ترقی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے ذریعے سمندری ماحول کے تحفظ اور ماحولیاتی شعور کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بلیو اکانومی وژن میں کھیلوں کے شعبے کو بھی شامل کر رہی ہے اور ساحلی علاقوں میں اسپورٹس اکیڈمیز، کرکٹ ٹریننگ سینٹرز اور نوجوانوں کے لیے تربیتی سہولیات کے قیام پر غور جاری ہے۔ ان کے مطابق گوادر سمیت مختلف ساحلی شہروں میں اسپورٹس اور اوشن آگاہی پروگرامز شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
شاہد آفریدی نے کھیلوں کے ذریعے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں اسپورٹس ٹورازم اور کرکٹ کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ نجی شعبے کی شراکت سے نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ بحری اور اسپورٹس سیکٹر کے باہمی اشتراک سے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا تاکہ ساحلی علاقوں میں کھیلوں، سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کو یکجا کیا جا سکے۔
