برسلز — نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے یورپی قانون سازوں سے خطاب میں کہا ہے کہ یورپ امریکا کے بغیر خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
مارک روٹے کے مطابق، اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ یورپ یا یورپی یونین امریکا کے بغیر اپنی آزادی اور سلامتی برقرار رکھ سکتی ہے تو وہ "خواب دیکھ رہا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور یورپ ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور امریکی نیوکلئیر امبریلا کے بغیر یورپ سب سے بڑا دفاعی ضامن کھو دے گا۔
سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر دفاعی خودمختاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے دفاعی اخراجات 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد تک کرنا ہوں گے اور اپنی جوہری صلاحیتیں بھی قائم کرنی ہوں گی، جس پر اربوں یورو خرچ ہوں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیوں کے بعد نیٹو میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے یورپی حامیوں پر ٹیرف لگانے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں جزیرے کے معدنی وسائل کے حوالے سے ایک فریم ورک معاہدے کے بعد دھمکیاں واپس لے لی گئیں۔ مارک روٹے اس معاہدے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں یورپی ممالک اور کینیڈا نے 2035ء تک مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد دفاعی اور سیکیورٹی پر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسپین اس معاہدے سے الگ رہا۔ اس دوران فرانس کی جانب سے یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کے مطالبے کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق مارک روٹے کے بیانات یورپ میں امریکا پر انحصار اور دفاعی خودمختاری کے درمیان جاری بحث کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں نیٹو کی حکمت عملی اور یورپی دفاعی پالیسی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
