او آئی سی کی مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت، فلسطینی حقوق کی بحالی اور یروشلم کی مرکزیت پر زور
جدہ – اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ فلسطینی کاز اور یروشلم کی اہمیت کو اجاگر کرے۔
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے جدہ میں غیر معمولی اجلاس منعقد کیا، جس میں فلسطینی علاقوں میں حالیہ پیش رفت اور اسرائیل کی نوآبادیاتی سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اختتامی بیان میں زور دیا گیا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
او آئی سی نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کا مکمل انخلاء کرے، بے گھر افراد کو ان کے گھروں میں واپس آنے کی سہولت فراہم کرے، اور ریاست فلسطین کو بین الاقوامی، عرب اور اسلامی حمایت کے ساتھ مکمل ذمہ داری قبول کرنے کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ تمام کراسنگ پوائنٹس کو معمول کے مطابق کھولنے کا عہد کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ اور دیگر بین الاقوامی فریق اسرائیلی آبادکاری، مغربی کنارے کے الحاق اور جبری نقل مکانی کو روکنے کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں۔ او آئی سی نے اسرائیلی کابینہ کے غیر قانونی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فلسطینی عوام کے تاریخی اور قانونی حقوق پر حملہ قرار دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
او آئی سی نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو روکیں، ان کی مذمت کریں اور اسرائیل کو اپنے قبضے اور نوآبادیاتی طرز عمل کو ختم کرنے پر مجبور کریں۔
مزید کہا گیا کہ عالمی برادری کو اقتصادی، سیاسی اور سفارتی پابندیوں سمیت تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ اسرائیلی قبضے اور اس کی نوآبادیاتی سرگرمیوں کے خلاف دباؤ بڑھایا جا سکے اور بین الاقوامی قوانین اور قانون پر مبنی عالمی نظام کی بنیادیں محفوظ رہیں۔