اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نامزد نئے سربراہ Roman Gofman نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی پر اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ Iran میں اسرائیل کا مشن تاحال مکمل نہیں ہوا اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ویڈیو پیغام میں انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ تقریباً چالیس روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، جن میں تہران کے اندر کارروائیاں اور حساس اہداف پر درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر حملے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موساد نے ایک بار پھر Tehran کے قلب میں سرگرم رہتے ہوئے اسرائیلی فوج کو مؤثر معلومات فراہم کیں، جس کی مدد سے ممکنہ خطرناک میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Benjamin Netanyahu کے دفتر کی جانب سے حال ہی میں Roman Gofman کو یکم جون سے موساد کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجی قیادت نے بھی ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی چیف آف اسٹاف Eyal Zamir نے اعلیٰ فوجی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور Iran کے ساتھ ممکنہ نئے تصادم کے لیے تیار رہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ایران کے میزائل سسٹمز اور لانچنگ پیڈز سمیت اہم عسکری اہداف کی فہرست کو تیزی سے حتمی شکل دے رہے ہیں۔
اس پیش رفت کا تعلق United States اور Iran کے درمیان جاری سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جن میں Pakistan میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اسرائیلی سکیورٹی حلقوں کا خیال ہے کہ سفارتی عمل سست روی کا شکار ہے، جس سے فوجی آپشنز پر غور بڑھ رہا ہے۔
