خیبر پختونخوا حکومت نے کیلاش کمیونٹی کے لیے پہلی بار باقاعدہ میرج بل پیش کردیا

خیبر پختونخوا حکومت نے کیلاش کمیونٹی کے لیے پہلی بار ایک باقاعدہ میرج بل پیش کر دیا ہے۔

یہ بل صوبائی وزیربرائے بلدیات میناخان آفریدی نےاسمبلی میں پیش کیا،جبکہ وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نےاسے کیلاش کمیونٹی کے لیےایک مثبت قدم قراردیا ہے،یہ ایک تاریخی قدم ہے کیونکہ پہلی بار کیلاش کی شادیوں اورخاندانی نظام کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔

اس بل کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن، طلاق اورخلع جیسے معاملات کو قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ بل میں شادی کے لیےکم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے، دونوں فریقین کی رضامندی کو لازمی قرار دینے اور بعض روایتی معاملات کو قانون کا حصہ بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔

حکومت کا موقف ہےکہ اس قانون سے کیلاش کمیونٹی کے حقوق محفوظ ہوں گے، خواتین کو زیادہ تحفظ ملے گا اور غیر رجسٹرڈ یا کم عمری کی شادیوں کی روک تھام ہو سکے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے