امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جسے دونوں ممالک نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع Pete Hegseth نے پینٹاگون میں انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع Sjafrie Sjamsoeddin کے ساتھ ملاقات کے بعد اس معاہدے پر دستخط کیے۔
اس موقع پر امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی اور Asia-Pacific میں استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھائیں گے، خاص طور پر بحری، زیرِ آب اور خودکار دفاعی نظاموں کی مشترکہ ترقی پر توجہ دی جائے گی، جبکہ فوجی تیاری اور آپریشنل صلاحیتوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اس معاہدے کو آئندہ نسلوں کے لیے دیرپا تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے تحت تعاون کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دفاعی شراکت داری کو ایسے طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا جو دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ ہو۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا انڈونیشیا کی فضائی حدود میں اپنے فوجی طیاروں کے لیے پرواز کی اجازت حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور تمام معاملات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
انڈونیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی فضائی حدود پر مکمل خودمختاری رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ دفاعی تعاون میں قومی خودمختاری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جکارتہ اس معاہدے میں توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔
