چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Guo Jiakun نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور موجودہ صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
چینی ترجمان نے امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ممکنہ ناکہ بندی کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ بنا دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ بحران ایک نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
China کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے چین اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس بحران کے حل کے لیے مکمل جنگ بندی ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
دوسری جانب چین کی سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ بیجنگ میں چینی صدر Xi Jinping سے ہسپانوی وزیر اعظم Pedro Sánchez نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام انتشار، غیر یقینی صورتحال اور کمزور بین الاقوامی ڈھانچے کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کا بین الاقوامی قانون کے ساتھ رویہ ان کی سوچ، پالیسی اور ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
چینی صدر نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت امن اور جنگ، اتحاد اور تصادم کے درمیان ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، اس لیے عالمی طاقتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔
اسی دوران بیجنگ میں Khaled bin Mohamed bin Zayed Al Nahyan نے بھی چینی صدر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی امن کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
