واشنگٹن میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کی زیر صدارت اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے باہمی طور پر طے شدہ وقت اور مقام پر براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے ایک جامع امن معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔ اسرائیل نے دیگر تنازعات کے حل اور دیرپا امن کے حصول کے لیے براہِ راست بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ اس نے لبنان کے ساتھ مل کر غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے ارادے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب لبنان نے جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور جاری انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ لبنانی مؤقف کے مطابق کسی بھی پیش رفت کے لیے شہریوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ اسرائیلی حملے لبنان میں جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 35 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ میدان میں کشیدگی تاحال برقرار ہے۔
