اسٹیٹ بینک نے لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس کمپنیوں اور صارفین کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دیدی۔
ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد اسٹیٹ بینک نے نیا سرکلر جاری کردیا، لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دیدی گئی۔
اعلامیے کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کے صارفین کو بھی بینک اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کی اجازت ہوگی، یہ اجازت سخت اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف قوانین کی پابندی کےساتھ دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ پیش رفت منظم اور ریگولیٹڈ نظام کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتی ہے، ریگولیٹری وضاحت سے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اعتماد اور شفافیت میں اضافہ متوقع ہے۔
اعلامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے، حکومت، ریگولیٹرز اور انڈسٹری کے درمیان تعاون اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل اکانومی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
