ملک میں بڑھتی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے ٹیلی کام سیکٹر و صارفین بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بجلی کی غیراعلانیہ بندش کے ساتھ ساتھ ” انٹرنیٹ لوڈشیڈنگ”بھی شروع ہو گئی ۔
ملک بھر میں بجلی کی گھنٹوں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےموبائل براڈ بینڈ سمیت ٹیلیکام سروسز بھی بحران سے دوچار ہیں، موبائل نیٹ ورک کی دستیابی اور سروس کے معیار پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں ۔ صارفین کو کال ڈراپ ، سست انٹرنیٹ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں صارفین نے گھنٹوں موبائل انٹرنیٹ بند رہنے کی بھی شکایات کیں ۔
ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے پاس موبائل ٹاورز کو مسلسل فعال رکھنے کیلئے متبادل انتظامات موجود نہیں ، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں بیک اپ سسٹمز کمزور یا سرے سے موجود ہی نہیں ہے، ٹیلی آپریٹرز کے مطابق بڑھتی لوڈشیڈنگ کے دوران سروس کا معیار برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد بجلی کی عدم دستیابی کے باعث توانائی پر مبنی آپریشنل اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ زیادہ تر موبائل ٹاورز پر بیٹری بیک اپ صرف دو سے چھ گھنٹے تک محدود ہے۔ طویل لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹرز کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے ۔ تاہم مہنگے ایندھن کے باعث ہر مقام پر یہ ممکن نہیں رہا
