وزیر اعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین گہرے روابط کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے ساتھ ہی پاکستان اور امریکہ نے اقتصادی، تجارتی اور دہشت گردی کے خلاف باہمی اشتراک کے نئے دور میں داخل ہونے کا عزم کیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت ترکیہ میں منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر سامنے آئی، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے مشیر معساد بولوس سے روبرو بات چیت کی۔ اس نشست کا مقصد علاقائی امن و استحکام اور دوطرفہ مفادات پر غور کرنا تھا۔
گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی قیادت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حالیہ اقدام کو بھی سراہا اور پاکستان کے مثبت علاقائی کردار کو اجاگر کیا۔ امریکی مشیر نے پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا۔ باہمی مذاکرات میں تجارت اور اقتصادی شعبوں میں معاونت کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ علاقائی صورتحال اور اسلام آباد میں ہونے والے مباحث زیر بحث آئے۔
اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاوشوں پر بھی غور کیا گیا، جہاں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ نشست دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی شراکت داری کی بنیاد رکھنے کا اشارہ دیتی ہے، جو خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
