بلغاریہ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے، جہاں سابق صدر رومن رادیو نے اپنی جماعت کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے "امید کی فتح” قرار دیا ہے۔
غیر سرکاری پولنگ ایجنسیوں کے مطابق رادیو کی قیادت میں بننے والے گروپ کو تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جس کی بنیاد پر اسے 240 رکنی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی سرکاری نتائج کا اعلان ابھی باقی ہے، جس کے باعث سیاسی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔
رادیو، جو ماضی میں ملک کے صدر رہ چکے ہیں، نے اپنی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے اور حکومتی اصلاحات کو مرکزی نعرہ بنایا تھا۔ انہوں نے انتخابی کامیابی کے دعوے کے بعد کہا کہ یہ "خوف پر آزادی اور بے اعتمادی پر امید کی جیت” ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم بوئیکو بوریسوف نے رادیو کو مبارکباد دیتے ہوئے محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ انتخابات جیتنا ایک مرحلہ ہے، اصل امتحان حکومت چلانے میں ہوگا۔ ان کی جماعت کو ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 12 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
بلغاریہ، جو یورپی یونین کا ایک رکن ملک ہے، گزشتہ چند برسوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ 2021 کے بعد سے ملک میں متعدد بار انتخابات ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ کرپشن کے خلاف عوامی احتجاج اور حکومتوں کی ناکامی رہی ہے۔
رادیو نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک کو ایک "جدید، جمہوری اور یورپی راستے پر گامزن بلغاریہ” بنانے کے لیے کام کریں گے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یورپی پالیسیوں پر تنقیدی نظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات نہ صرف بلغاریہ کی داخلی سیاست بلکہ یورپ میں بدلتے سیاسی رجحانات کی بھی عکاسی کرتے ہیں، جہاں عوام روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر نئی قیادت کو موقع دے رہے ہیں۔
مزید برآں، رادیو کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بیانات اور یوکرین کو فوجی امداد کی مخالفت نے بھی اس انتخاب کو بین الاقوامی سطح پر خاص اہمیت دے دی ہے۔
