Iran کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ تہران نے United States کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم کسی بھی صورت میں “غیر ضروری مطالبات” قبول نہیں کیے جائیں گے۔
قطری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی مذاکراتی حکمت عملی مکمل طور پر قومی مفادات اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت طے کی جاتی ہے، اور ملک کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات کو ایران “میدان جنگ کا تسلسل” سمجھتا ہے، اس لیے ہر پیش رفت کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے نتائج ایران کی سکیورٹی اور حاصل کردہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں تو یہ ایک مثبت موقع ہو سکتا ہے، تاہم دباؤ پر مبنی کسی بھی شرط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ایران نے واضح ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے، اور مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مطالبہ تسلیم کر لیا جائے۔
اسلام آباد میں ممکنہ مذاکراتی ٹیم بھیجنے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صورتحال اور مثبت اشاروں پر منحصر ہوگا، اور ایران کسی بھی وقت اپنے موقف کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے۔
