امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے اسلام آباد کے مجوزہ دورے کو اچانک منسوخ کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی طویل سفری عمل یا وفود کے تبادلوں کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق “اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو صرف فون کرنا ہوگا۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور کنفیوژن موجود ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل فیصلہ سازی کس کے پاس ہے۔ ان کے بقول، امریکا کے پاس اس وقت زیادہ اثر و رسوخ اور “کارڈز” موجود ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایلچیوں کا طویل دورہ وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا، اسی لیے اسلام آباد کا دورہ منسوخ کیا گیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ امن کوششوں کے خاتمے یا جنگ کی بحالی کا اشارہ نہیں ہے۔
ایک علیحدہ گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایلچیوں کے دورے کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کے ساتھ کشیدگی دوبارہ جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اس پوزیشن میں ہے کہ مذاکرات کے لیے دباؤ برقرار رکھے اور ایران جب چاہے براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے، تاہم طویل دوروں کی ضرورت نہیں۔
