امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس متنازع پالیسی کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت بیشتر تارکینِ وطن کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھا جا رہا تھا۔ اس فیصلے کو امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو لاکھوں افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک میں قائم عدالت نے 3-0 کے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت نے امیگریشن قانون 1996ء کی غلط تشریح کرتے ہوئے اس پالیسی کو نافذ کیا۔ عدالت کے جج جوزف بیانکو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس غلط تشریح کے نتیجے میں امیگریشن نظام پر غیر ضروری دباؤ پڑا، خاندانوں کی علیحدگی ہوئی اور متعدد سماجی مسائل نے جنم لیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا گیا، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ پالیسی قانون کی روح، تاریخی تناظر اور بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔
پالیسی کے تحت امریکی حکام نے نہ صرف سرحد پار کرنے والے افراد بلکہ ملک کے اندر پہلے سے مقیم غیر ملکیوں کو بھی “داخلے کے درخواست گزار” قرار دے کر حراست میں لینا شروع کر دیا تھا، جس کے باعث انہیں ضمانت کا حق حاصل نہیں رہتا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ ماضی میں ایسے افراد، خصوصاً وہ جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہوتا، انہیں ضمانت کا موقع فراہم کیا جاتا رہا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔
