امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو اسلحہ اور فوجی آلات فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور علاقائی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیکج میں جدید ہتھیار، دفاعی نظام اور جدید فوجی ٹیکنالوجی شامل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ فروخت کو عموماً اتحادی ممالک کو مضبوط کرنے اور مخالف قوتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو تیز کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
