سعودی عرب میں حج 1447 ہجری کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں کدانہ ڈویلپمنٹ کمپنی کی جانب سے وادی منیٰ میں عازمین حج کی رہائش کے لیے خیموں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق منیٰ کی عارضی خیمہ بستی میں 45 ہزار سے زائد خیمے نصب کیے جا چکے ہیں، جو تقریباً 3.5 ملین مربع میٹر رقبے پر محیط ہیں۔
مشاعر مقدسہ (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) میں جدید انفراسٹرکچر کے تحت عازمین کو جامع سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے 6 ہزار سے زائد پھوار پولز، 1500 مکعب میٹر فی گھنٹہ گنجائش کے 5 آپریشن اسٹیشنز اور 25 ہزار واٹر ٹینکس کا بندوبست کیا گیا ہے۔
بنیادی سہولیات کے تحت 3400 واش روم کمپلیکس، 212 موبائل یونٹس جبکہ صفائی کے لیے 2500 کارکن تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 195 گراؤنڈ مینٹیننس سینٹرز اور 3 ہزار سے زائد ٹیکنیشنز بھی موجود ہوں گے تاکہ کسی بھی خرابی کی صورت میں فوری مرمت کی جا سکے۔
دوسری جانب حج سیزن 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر سے عازمین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ فضائی پروازوں کے بعد اب بحری راستے سے بھی عازمین پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ جدہ اسلامی بندرگاہ پر سوڈان سے آنے والے عازمین کا پہلا قافلہ پہنچا، جنہیں براہ راست مکہ مکرمہ منتقل کیا گیا۔
امیگریشن ادارہ جوازات نے بندرگاہ پر خصوصی کاؤنٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز رفتار سہولیات فراہم کیں، جبکہ عملے کو مختلف زبانوں کی تربیت بھی دی گئی ہے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
عازمین کا کہنا ہے کہ جدہ پہنچنے پر ان کا استقبال مثالی انداز میں کیا گیا اور امیگریشن کے مراحل بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہوئے۔
