ایران کے جنوبی ساحلی شہر Bandar Deyr میں متعدد کمرشل جہازوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کے ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں اور حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔ اس دوران فائر فائٹرز مسلسل آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ نقصان کو محدود کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب Strait of Hormuz میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں بحری سرگرمیوں، میزائل حملوں کے دعووں اور فوجی بیانات نے خطے کو ایک نازک صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جہاں معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس سیز فائر کو غیر مستحکم بنا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات کا سلسلہ جاری رہا تو خطہ ایک بار پھر کھلی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔
حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
