ایران کے ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Ismail Baghaei کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعاون ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی کارروائیاں صرف امریکا کے خلاف تھیں، جبکہ ابوظبی میں موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران مخالف کسی بھی کارروائی پر بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے مرکزی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے بھی واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق اماراتی وزارت دفاع کی رپورٹ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اور اگر امارات کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو امریکا اور اسرائیل کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہیں بننا چاہیے، بصورت دیگر اسے خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے صورتحال کو بگاڑا جا رہا ہے۔
اسی دوران ایرانی بحریہ نے Strait of Hormuz سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص راستوں کا استعمال کریں۔ حکام نے خبردار کیا کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
