اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے لیے ایک اہم قرارداد پیش کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جسے امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں کی مشترکہ سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مجوزہ قرارداد خاص طور پر Strait of Hormuz میں جاری کشیدگی اور جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد میں ایران پر آزادانہ بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے، تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے اور مخصوص ممالک کے جہازوں کو گزرنے سے روکنے پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کے مطابق نیوی گیشن کی آزادی کو یقینی بنائے اور انسانی بنیادوں پر بحری گزرگاہ کھولنے کے لیے اقوام متحدہ کے اقدامات میں تعاون کرے۔
دوسری جانب United States نے اپنی بحری ناکہ بندی کو ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کا نام دے رکھا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ قرارداد اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم (Chapter VII) کے تحت تیار کی گئی ہے، جو صورتحال کی سنگینی کی صورت میں سخت اقدامات، حتیٰ کہ پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی بھی اجازت دیتا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Mike Waltz نے امید ظاہر کی ہے کہ سلامتی کونسل کے 15 میں سے زیادہ تر ارکان اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ ان کے مطابق ایران کے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اس لیے بین الاقوامی برادری کا متحدہ ردعمل ضروری ہے۔
