جنگ بندی کے باوجود ایران نے امریکی افواج اور تجارتی جہازوں پر 10 سے زائد حملے کئے، امریکی جنرل کا انکشاف

Chairman of the US Joint Chiefs of Staff General Dan Kane

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین General Dan Kane نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی ایران نے امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے 10 سے زائد حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 8 اپریل 2026ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ایران نے نہ صرف امریکی اہداف بلکہ تجارتی جہازوں پر بھی نو بار فائرنگ کی، جبکہ دو مال بردار بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں بھی لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ حملے فی الحال محدود نوعیت کے ہیں اور اس سطح تک نہیں پہنچے جہاں بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران نے عمان اور United Arab Emirates پر بھی حملے کیے، جن میں کروز میزائل، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔ تاہم امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹروں نے ان حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

جنرل کین نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے باعث خلیجی پانیوں میں 1550 سے زائد تجارتی جہاز متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً 22,500 ملاح غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ Strait of Hormuz کے جنوبی حصے میں عمان کے قریب ایک وسیع سکیورٹی زون قائم کیا گیا ہے، جہاں امریکی بری، بحری اور فضائی افواج تعینات ہیں تاکہ جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اسی موقع پر امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے ان اقدامات کو ’’سرخ، سفید اور نیلے رنگ کی مضبوط ڈھال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں تجارتی نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے