بھکر: گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بھکر کی بنجر اور ریتلے علاقے میں حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں چند ماہ پہلے تک ریت کے بلند ٹیلوں پر مشتمل زمین کو جدید زرعی و برآمدی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔
منصوبے سے وابستہ کمپنی پینٹیرا لمیٹڈ کے سی ای او فرقان علی اختر کے مطابق صرف 60 دن کے اندر 1800 ایکڑ پر مشتمل جدید زرعی فارم تیار کیا گیا جو اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فارم پر 13 سنٹرل پیوٹ سسٹمز اور 2.4 میگاواٹ ہائبرڈ سولر سسٹم کے ذریعے جدید آبپاشی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
چیف آپریٹنگ آفیسر فاروق سعید کے مطابق صرف چار ماہ قبل یہ زمین 20 سے 50 فٹ بلند ریت کے ٹیلوں پر مشتمل تھی تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے اسے قلیل مدت میں قابلِ کاشت بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 1800 ایکڑ میں سے 1300 ایکڑ رقبہ زیرِ کاشت آ چکا ہے جہاں گندم اور روڈز گراس کی کاشت کی جا رہی ہے جبکہ روڈز گراس کو برآمد بھی کیا جا رہا ہے جس سے زرعی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔
فاروق سعید کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی میں گرین پاکستان انیشیٹو کی مکمل معاونت، مضبوط انفراسٹرکچر اور بروقت مسائل کے حل نے کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید برآں گرین ایگری مال کے ذریعے معیاری بیج، کھاد اور دیگر زرعی سہولیات کی شفاف اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس منصوبے کے تحت چینی کمپنیوں کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی بار ہائبرڈ بیج متعارف کروائے گئے ہیں جو زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
