ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ملاقات کے دوران چین اور روس کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں جامع اسٹریٹجک تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ اور 20 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ توانائی کے ایک بڑے منصوبے پر بھی اتفاق کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوری اور مکمل جنگ بندی ضروری ہے جبکہ یوکرین بحران کے حل کے لیے بنیادی وجوہات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک نے اپنی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ فوجی مشقوں میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض ممالک نے نوآبادیاتی طرزِ عمل کے ذریعے عالمی معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی یہ کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی لین دین زیادہ تر روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دستخط شدہ دستاویزات کا مقصد اقتصادی تعاون کو مسلسل جاری رکھنا ہے اور چین کے ساتھ تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ روس اور چین آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور عالمی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق چینی قیادت کے ساتھ بات چیت دوستانہ اور تعمیری رہی۔
دوسری جانب شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس ایک دوسرے کی اسٹریٹجک حمایت کو مزید مضبوط بنائیں گے جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو تیز کیا جائے گا۔
