ٹرمپ، خاندان اور کاروباری اداروں کو ٹیکس تحقیقات سے مکمل استثنیٰ

Trump, family and businesses granted complete immunity from tax probe

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروباری اداروں کو جاری اور ممکنہ ٹیکس تحقیقات سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ایک خصوصی ہدایت نامے میں سامنے آیا ہے، جس کے مطابق صدر ٹرمپ، ان کے اہلخانہ اور کاروباری اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی موجودہ یا مستقبل کی ٹیکس تحقیقات یا دعووں کو روک دیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ اقدام اس معاہدے کے بعد کیا گیا ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ نے امریکی ٹیکس ادارے کے خلاف 10 بلین ڈالرز کا مقدمہ نمٹایا تھا۔ یہ مقدمہ ان کے ٹیکس ریکارڈ میڈیا میں لیک ہونے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کی دستخط شدہ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ فیملی اور ان کے کاروبار کے خلاف ٹیکس سے متعلق تمام کارروائیاں مستقل طور پر بند کی جائیں گی، چاہے وہ پہلے سے جاری ہوں یا مستقبل میں سامنے آئیں۔

اس فیصلے پر امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے اپنے خاندان کو حکومتی طاقت کے ذریعے مالی فائدہ پہنچایا ہے۔

سینیٹر ایڈم شف نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ نے سرکاری اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ سابق سرکاری مشیر رچرڈ پینٹر نے بھی اس اقدام کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے، ان کے مطابق صدر کو سرکاری اداروں سے ذاتی مالی فائدہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے