Yvette Cooper نے کہا ہے کہ اسرائیلی حراست میں موجود فلوٹیلا کارکنوں کی ویڈیوز دیکھ کر وہ دنگ رہ گئیں۔ برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق یہ مناظر انسانی احترام اور وقار کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ برطانیہ نے اسرائیلی حکام سے اس واقعے کی وضاحت طلب کر لی ہے۔
European Commission نے بھی غزہ جانے والے فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل تمام کارکنوں اور یورپی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔
یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر زمین پر بٹھانا توہین آمیز عمل ہے۔
Italy، France، Canada اور Netherlands نے بھی اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلوٹیلا ارکان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب New Zealand نے غزہ جانے والے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی Itamar Ben-Gvir کے رویے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ Winston Peters نے کہا کہ بین گویر کے حالیہ اقدامات اس بات کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ وہ امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔
ادھر South Korea نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حراست میں موجود اس کے بعض شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا نے پہلے اسرائیلی کارروائی کو “اغوا” قرار دیتے ہوئے سخت تشویش ظاہر کی تھی۔
Australia کی وزیر خارجہ Penny Wong نے بھی اسرائیل کے “ذلت آمیز” رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا کارکنوں کی تصاویر حیران کن اور ناقابل قبول ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی جہازوں کو روک کر متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
