سابق کیوبن صدر Raúl Castro پر امریکا نے قتل کی سازش اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق قائم مقام اٹارنی جنرل نے راؤل کاسترو سمیت پانچ دیگر افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں امریکی شہریوں کے قتل، طیارے تباہ کرنے اور سازش کے الزامات شامل ہیں۔
یہ مقدمہ 1996 میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق ہے جب کیوبا کے جنگی طیاروں نے ایک فضائی کارروائی کے دوران امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں چار امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور منظوری کیوبن قیادت کی سطح پر کی گئی تھی، اسی بنیاد پر سابق کیوبن صدر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔
دوسری جانب Cuba کی حکومت نے راؤل کاسترو پر فردِ جرم کو غیر قانونی اور سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Donald Trump نے گزشتہ روز کیوبا پر دہشت گردی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔
امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنے ساحل سے صرف 90 میل دور کسی “دشمن ریاست” کو برداشت نہیں کرے گا اور کیوبا کے عوام کو آزادی دلانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
