امریکا کی فلسطینی وفد کے ویزے منسوخی کی دھمکی، اقوام متحدہ میں اعلیٰ عہدے کی دوڑ پر تنازع

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اندرونی کیبل کے لیک ہونے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ واشنگٹن فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کرنے پر غور کر رہا ہے اگر اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن اپنے ایلچی کی جانب سے جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدوار نامزد کرتا ہے۔

NPR کی رپورٹ اور دیگر ذرائع کے مطابق لیک ہونے والی کیبل میں امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے ریاض منصور کی ممکنہ نامزدگی کو “تناؤ کو ہوا دینے والا اقدام” قرار دیں اور خبردار کریں کہ اس کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق امن منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک فلسطینی مشن نے باضابطہ طور پر اپنی نامزدگی جمع نہیں کرائی، اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا وہ ایسا کرے گا یا نہیں۔

لیک شدہ کیبل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی وفد نے اپنی نامزدگی واپس نہ لی تو انہیں ممکنہ سفارتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ برس بھی امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کے بعض نمائندوں کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا تھا، جسے سفارتی حلقوں میں ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کیبل کے وجود کی مکمل طور پر تردید نہیں کی، تاہم اس کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ ویزا پالیسی اور اقوام متحدہ معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

فلسطینی مشن نے بھی اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ میں مبصر حیثیت رکھتی ہے اور وہ 193 رکنی جنرل اسمبلی میں ووٹ کا حق نہیں رکھتی، تاہم بعض اجلاسوں میں نمائندگی اور شرکت کی اجازت حاصل ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے