عید الاضحیٰ صرف ایک تہوار یا مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ملک میں غیر رسمی معیشت کی سب سے بڑی سرگرمیوں کا مجموعہ ہے۔ اس عید پر پاکستان میں 540 ارب سے 750 ارب روپے تک کی معاشی سرگرمی ہوتی ہے۔
عید سے پہلے مارکیٹ سرمائے کی گردش میں تقریبا 620 ارب روپے اضافہ ہوتا ہے، جس میں بیشتر لین دین نقد ہوتا ہے۔سپلائی چین میں مویشی پال کسان، بیوپاری، ٹرانسپورٹرز، منڈی، مالکان، چارہ فروش، قصاب اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کا روزگار جڑا ہے۔
عید قرباں کے دوران جانوروں کی خرید و فروخت اور قربانی کا مجموعی اوسط تخمینہ 641 ارب روپے ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں عید قرباں کے 3 دن میں تقریباً 74 لاکھ جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ قربانی میں گائے، بھینس، بکرے، بھیڑ اور اونٹ شامل ہوتے ہیں۔ 5 لاکھ 32 ہزار ٹن سے زئد گوشت تقسیم ہوتا ہے جو کہ ملک کا سب سے بڑا نجی غیررسمی فوڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم بھی ہے۔
سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے ملک کے طول و عرض میں صرف 72 گھنٹے کے دوران آدھے کھرب روپے سے زائد مالیت کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ یہ رقم وفاقی ترقیاتی پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی کے تقریبا 60 فیصد کے برابر ہے۔ صرف منی پاکستان یعنی کراچی میں عید قرباں کے دوران 185 ارب روپے تک معاشی سرگرمی کا تخمینہ ہے۔
عید الاضحی کی سب سے خاص بات یہ کہ ایام عید میں شہروں سے دیہات تک 400 ارب روپے سے زائد آمدن کی منتقلی ہوتی ہے۔ جو کہ لائیو اسٹاک یا مویشی پالنے والے کسانوں اور دیہی خاندانوں کی آمدنی کا سب سے بڑا زریعہ ہے۔ قصاب ہزاروں روپے فی جانور فیس وصول کرکے عید سیزن لگاتے ہیں۔ قربانی کی کھالوں سے لیدر انڈسٹری کو خام مال ملتا ہے جبکہ برآمدی صنعت بھی خوب فائدہ اٹھاتی ہے۔
