ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری، حتمی معاہدے کی خبروں کو قیاس آرائی قرار دے دیا گیا

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met with his Egyptian counterpart

تہران: ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کسی حتمی نتیجے یا معاہدے تک پہنچ چکے ہیں۔

اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت میڈیا اور مختلف حلقوں میں سامنے آنے والی اطلاعات زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، جنہیں حتمی یا مصدقہ معلومات نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، ان کی حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہیں ماضی کی طرح امریکی نمائندے Steve Witkoff کے براہ راست پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ اور براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں کسی بھی سیاسی یا سرکاری فریق کے ساتھ براہ راست امریکی مذاکرات کے دعوے درست نہیں ہیں۔ ان کے بقول تمام سفارتی پیغامات اور رابطے وزارت خارجہ کے سرکاری چینلز کے ذریعے بھیجے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے سابقہ تجربات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک مرحلے پر معاہدہ طے پانے کے باوجود امریکا بعد میں اس سے دستبردار ہو گیا تھا، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کے وعدوں اور ضمانتوں پر مکمل اعتماد نہیں رہا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے