حج پر تنقید کا جواب، وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق کی وضاحت

حج کی ادائیگی کے دوران سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنے والی شخصیات وسیم اکرم، فخر عالم اور مصباح الحق نے اپنے طرزِ عمل اور مذہبی فیصلوں کے حوالے سے وضاحت پیش کی ہے۔

تینوں شخصیات نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ انہوں نے حج کے دوران سر کیوں نہیں منڈوایا۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ روانگی سے قبل علماء کرام سے شرعی رہنمائی حاصل کی گئی تھی، جنہوں نے دو جائز آپشنز بتائے تھے: یا مکمل سر منڈوایا جائے یا قصر کروائی جائے، یعنی بالوں کا کچھ حصہ ترشوایا جائے۔ ان کے مطابق انہوں نے قصر کا انتخاب کیا، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز اور قابلِ قبول عمل ہے۔

حج کے دوران تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں فخرِ عالم نے کہا کہ ان کا مقصد حج کو تفریح یا نمائش کے طور پر پیش کرنا نہیں تھا بلکہ نوجوان نسل کو اس عظیم عبادت کے مختلف مراحل سے آگاہ کرنا اور انہیں حج کی ترغیب دینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حج ایک روحانی سفر ہے جس میں عبادت، دعا، ذکر اور قربِ الٰہی کے ساتھ ساتھ انسان اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ وقت بھی گزارتا ہے۔ ایسے لمحات میں مسکرانا، بات چیت کرنا یا یادگار لمحات محفوظ کرنا حج کے تقدس کے منافی نہیں۔

وسیم اکرم نے اپنے حج کے فیصلے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی حج کے لیے کوئی مخصوص منصوبہ بندی نہیں کی تھی بلکہ ہمیشہ یہ خواہش رکھی تھی کہ جب دل سے آمادگی محسوس ہوگی تو یہ فریضہ ادا کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کے قریبی دوست پہلے سے حج کی تیاری کر رہے تھے، اس لیے انہوں نے بھی اس مقدس سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ وسیم اکرم کے مطابق وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب حج کی ادائیگی کا بہترین وقت ہے۔

سابق قومی کپتان مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے کو انتہائی روحانی اور یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوستوں کے ساتھ اس مقدس فریضے کی ادائیگی نے ان کی خوشیوں اور روحانی کیفیت میں مزید اضافہ کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے