وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہاہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پبلک ویلفیئر کے تھے وہ پورے کر دیئے گئے، 12سیٹوں کے حوالے سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہماری 4تجاویز نہیں مانیں، آٹا آزاد جموں و کشمیر میں پنجاب سے 50 فیصد ریٹ پر مل رہا ہے، آزادکشمیر میں بجلی کے نرخ 3روپے فی یونٹ ہیں، ان کے تمام مطالبات پورے کردیئے گئے تھے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اپنی مدت پوری کرچکی ہے، آزادکشمیر میں نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، 27جولائی کو قانون ساز اسمبلی کے آئندہ الیکشن ہونے جارہے ہیں، پرامن طریقے سے آزادکشمیر حکومت میں آزادانہ، پرامن الیکشن منعقد کرائے جا رہے ہیں، کچھ ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے امن وامان کی صورتحال خراب ہو، پرتشدد مظاہرے ماضی میں ہوتے رہے، دوبارہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی ستمبر2023میں معرض وجود میں آئی، اس کمیٹی کے مطالبات 3ہیں، آٹے پر سبسڈی، بجلی قیمتوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی ہے، اس کے نتیجے میں مئی2024 میں آزاد جموں و کشمیر میں ہنگامے، پرتشدد مظاہرے، ہلاکتیں نظر آتی ہیں، ان کے مطالبات پورے کردیئے جاتے ہیں، آٹا آزاد جموں و کشمیر میں پنجاب سے 50 فیصد ریٹ پر مل رہا ہے، آزادکشمیر میں بجلی کے نرخ 3روپے فی یونٹ ہیں، ان کے تمام مطالبات پورے کردیئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025میں دوبارہ وہی لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن کی کال، پرتشدد مظاہرے،ہلاکتیں اور 38مطالبات کا چارٹر آف ڈیمانڈ مقرر کردیا گیا، وزیراعظم پاکستان اس تمام معاملے پر بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے تھے، وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی 3اکتوبر2025کو گئی اور 4اکتوبر کو ایک معاہدہ تشکیل پایا، وزیراعظم نے اس معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس معاہدے کی تمام شقوں کیلئے جتنے فنڈز چاہئیں وہ مہیا کریں، وزیراعظم پاکستان نے ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی، امیر مقام اور میں نے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے ہرماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کیں، اسلام آباد اور مظفر آباد میں ملاقاتوں کے بعد ہر ماہ جائزہ رپورٹ مرتب کرتے تھے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دوبارہ ایک اور کال دی ، وزرا کی کمیٹی اور پیپلزپارٹی کے رہنما دوبارہ ان سے ملے، ان کی مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی 12سیٹوں کو ختم کیا جائے، ہم نے انہیں چار آپشنز دیئے، ہم نے کہا یا تو معاملے کو اے پی سی میں لے آئیں، ہم نے کہا رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں پر مشتمل اے پی سی میں اس معاملے پر بحث کی جائے، یہ 20 سے 22 لاکھ مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں، ان کی 12سیٹوں کو 12لوگ ایک بند کمرے میں بیٹھ کر ختم نہیں کر سکتے، یہ ایک آئینی معاملہ ہے۔
