ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب بڑھ رہی ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے سرگرم عالمی تنظیم International Campaign to Abolish Nuclear Weapons (ICAN) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق دنیا کے نو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 119 ارب ڈالر جوہری ہتھیاروں اور متعلقہ پروگراموں پر خرچ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک اپنے جوہری ذخائر کو جدید بنانے، نئے نظام متعارف کرانے اور موجودہ ہتھیاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آئی سی اے این کی ڈائریکٹر پروگرامز اور رپورٹ کی شریک مصنفہ سوسی سنائیڈر نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے خطرات مزید پیچیدہ اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوہری صلاحیتوں کا امتزاج عالمی امن کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔
دوسری جانب Stockholm International Peace Research Institute کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جوہری وار ہیڈز کی مجموعی تعداد گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کم ہوئی ہے اور رواں سال کے آغاز پر یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 12,187 رہ گئی۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ استعمال کے لیے تیار جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھ کر 9,745 تک پہنچ چکی ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔
ایس آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر کریم ہیگاڈ کے مطابق اگرچہ مجموعی ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ کئی ممالک اپنے زیادہ وار ہیڈز کو ذخائر سے نکال کر فعال ڈیلیوری سسٹمز پر منتقل کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنے والے برسوں میں عالمی جوہری ذخائر دوبارہ بڑھنا شروع ہو سکتے ہیں، کیونکہ پرانے ہتھیاروں کو ختم کرنے کی رفتار سست پڑ رہی ہے جبکہ نئے ہتھیاروں کی تیاری اور تعیناتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
